رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کا سیاسی نظام اور اس کا اہم پہلو مدینہ سے شروع ہوتا ہے مکہ معظمہ سے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد قومی سماجی اور بین الاقوامی کی ترقی اور امن وامان کے قیام کے لئے مہاجرین اور انصار اورمشرکین مدینہ کے اہل کتاب اور اطراف مدینہ و دیگر قبائل عرب بشمول قریش مکہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریبا اٹھائیس نکات پر مشتمل ایک آئندہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے موسوم ہے جو تاریخ اسلام اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے۔ اسلام کا سیاسی نظام دراصل اس تعلق کی حفاظت کرتا ہے جو اللہ تعالی کا اپنے مخلوق سے اور مخلوق کا ایک دوسرے سے تعلق ہے: 1- اسلام میں ملوکیت، سیکولر جمہوریت اور سوشلزم، کمیونزم اور تھیاکریسی نہیں ہے۔ 2- اسلام کا سیاسی نظام خلافت علی منہاج نبوت ہے جس کی بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جو اسے دیگر غیر اسلامی سیاسی نظریات سے ممتاز کرتی ہیں، خلافت صرف مسلمانوں ہی کیلیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے رحمت، ان کی مشکلات کا حل، اور ان کے مسائل کا علاج ہے۔ 3- اس وقت دنیا اس ظلم و ستم سے بھر گئی ہے اس لیے انشاءاللہ جلد ہی خلافت دوبارہ قائم ہوجائے گی۔ 28، 29 اپریل...
Posts
مکالمے کی سطحیں: مغرب سے مکالمے کی طرف بڑھتے وقت اس تاریخی پس منظر پر نگاہ دوڑائی جائے تو اسلام کا مکالمہ کم از کم 6 محاذوں یا 6 سطح ( levels ) پر کرنا ہوگا۔ تصورِ حیات: ان میں سب سے اول سطح تصور حیات ہے، یعنی مغربی تہذیب جس تصور حیات کی نمائندگی کرتی ہے اور اسلام جو تصور حیات دیتا ہے، اُن میں کون سی چیزیں مشترک ہیں ،کہاں پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے،کن مقامات پرمفاہمت کی شکل کا امکان ہے اور کہاں پر کوئی تعاون نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک ان حدود کا تعین نہ کر لیا جائے مکالمہ اور مکالمے کا تذکرہ ایک نمائش سے زیادہ نہ ہو گا۔ کسی بھی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش کیلئے ضروری ہے کہ قواعدِ عمل اور موضوعات کا تعین پہلے کرتے ہوئے گفتگو کو انہی نکات تک محدود رکھا جائے ۔ مغربی تصورِ حیات3 بنیادوں پر قائم ہے۔ اولاً: انسان کی معاشی ضروریات اس کی تمام مساعی کا محرک اور کامیابی کا پیمانہ ہیں چنانچہ مادیت اور مادی ترقی زندگی کا اولین مقصد ہے۔ ثانیاً: زندگی گزارنے کے لیے خوشی اور لذت کا حصول، انسان کی تمام توجہات کا مرکز ہونا ...
جمہوریت محض ایک لفظ نہیں ایک تصور ہے ، ہر تصور کو سمجھنے کے لئے اس کی تاریخ جاننا ضروری ہے ۔ موجودہ تصور جمہوریت 18ویں صدی کی یورپی فکر کی پیداوار ہے ۔ موجودہ جمہوری فکر کا سب سے اہم بانی روسو (Rousseau) ہے ۔ رو سونے مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بغاوت کی نظری بنیادیں فراہم کیں ۔ پروٹسٹنٹ عیسائیت مطلق عنان بادشاہوں کو واحد جائز قانون ساز کی حیثیت سے تسلیم کرتی تھی ، پروٹسٹنٹ عیسائیت کادعوی تھا کہ بادشاہ خداکانائب ہے اور وہ قانون بناتا ہے خدا کی مرضی سے بناتا ہے ۔ عیسائیت کی اپنی کوئی شریعت موجود نہ تھی اور دین دار دنیا کے الگ الگدائرہ کار ہونے کے تصورپر (St.Augestine) کے زمانے سے (یعنی چوتھی پانچویں صدی عیسوی پر)تمام عیسائی فرقوں کے مابین اجماع ہوگیاتھا۔ لہٰذ جب پروٹسٹنٹوں نے بادشاہ کی الوہیت (Sivine Sught Of the King) دعویٰ پیش کیاتوکیتھولک اورتھوڈوکس مکاتیب کے پاس اس کورد کرنے کاکوئی جواز نہیں تھا، پاپائے روم دنیوی بالخصوص سیاسی معاملات میں قانون سازی آیات انجیل بہ احادیث عیسیٰ علیہ السّلام کی بنیاد پرنہیں کرسکااورفرانس جیسے کٹرعیسائی ملک میں بھی بوربون (Bowrboun) خ...
اسلام اور مغرب کی تاریخی حیثیت اور اس کے مقاصد: اگر تاریخ کے آئینے میں اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ساتویں صدی عیسوی میں ظہور اسلام کے ساتھ ہی قرآن کریم نے اہلِ کتا ب کو دعوتِ مکالمہ دینے میں پہل کرتے ہوئے مختلف سطح پر رابطہ اور تبادلہ خیال کی راہیں نکالیں۔ اس سلسلے میں نبی کریم ﷺ کے نامۂ مبارک، جو مختلف عیسائی و غیر عیسائی فرماں رواؤں کو لکھوائے گئے تھے ، رابطے کے اولین اقدامات کہا جا سکتا ہے۔ قرآن کریم نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور خصوصاً اہلِ کتاب کو باربار دعوتِ فکر دیتے ہوئے مشترک بنیادوں پر اس مکالمے کا آغاز کرنے کی دعوت دی۔ اس بنا پر یہ خیال کرنا درست نہ ہو گا کہ اسلام اور مغرب کا مکالمہ کوئی نئی چیز ہے۔ یہ مکالمہ اسلامی ریاست اور معاشرے کے دورِ عروج میں بھی رہا اور مسلمانوں کے دورِ زوال بلکہ مغربی سامراج کی محکومی کے دوران بھی جاری رہا ۔گو ہر دور کے لحاظ سے مکالمے کے دائرے اور زاویے بدلتے رہے۔ قرآنی زاویے سے اس مکالمے کا پہلا مقصد الہامی ہدایت کو ماننے والے مذاہب میں قْرب پیدا کرنا ہے تا کہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے جس می...
اسلام اور مغرب کے درمیان مکالمہ: اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان مکالمہ محض نظری سطح پر نہیں بلکہ ہر سطح پر ظہورِ اسلام سے رہا ہے: اکیسویں صدی کا آغاز جن واقعات سے ہوا، انھوں نے اسلام اور مغرب کی تاریخی آویزش کو ایک نئی شکل دے دی اور ہر دو فریق جن خدشات، خطرات اور تنازعات کا شکار ہوئے، وہ عالمی نقشے پر بعض بنیادی تبدیلیوں کا سبب بن گئے۔ مغربی اقوام خصوصاً امریکہ کے سامراجی عزائم عملی شکل اختیار کر گئے اور مغرب کے تمام حقوق انسانی، سرحدی آزادی، ملکی خود مختاری اور امن عالم کے نام نہاد نعروں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ مغرب کے بعض نمائندہ مفکرین نے سیاسی، سامراجی عزائم کو نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کا چوغا پہنا کر مسلم ممالک کے توانائی کے وسائل پر عسکری قوت سے قبضہ کرنے کے گھناؤنے عمل کو امریکہ کی ’’قومی سا لمیت کے تحفظ‘ ‘کا نام دیا۔1992ء میں امریکی مفکر سیموئل پی ہنگٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں جس تہذیبی ٹکراؤ کے خدشے کا اظہار کیا تھا وہ عملاً پہلے سے تحریر شدہ ایک کہانی کے خاکے کی طرح ستمبر2011ء میں افغانستان اور ...
سکون ایک غیر مادی چیز ہے۔ اور انسان اس کو مادی وسائل کے زریعے حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے لیکن وہ جسمانی سکون حاصل کرنے میں کچھ حد تک کامیاب ہو گیا ہے لیکن روحانی سکون سے وہ کوسوں دور ہے۔ آج کے دور میں قلبی سکون حاصل ہو جانا نا ممکن سی بات محسوس ہوتی ہے ہر نفس دکھی اور پریشانی کا شکار ہے۔کوئی معاشی پریشانی کا شکار ہے تو کوئی بیماری میں مبتلا ہے۔کوئی سیاست کا دکھی رآگ الاپتا ہے تو کوئی سماج کے دکھوں کے ہاتھوں پریشان ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ اک غیر مادی وجود جس انسان کے پاس ہوگا تو سب کچھ انسان کو حاصل ہے لیکن اگر یہ انسان کے پاس نہیں ہو گا تو انسان سب کچھ ہونے کے باوجود بھی خالی ہے۔ یہ کیسی مادی ترقی ہے کہ جس میں منزل و مقصود کی خبر نہیں اور نہ پرواہ ۔مدعائے حیات سے کیسی لا تعلقی ہے ۔ یہ جسمانی آرام تو روحانی تنزلی کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ ہمیں یہ جسمانی آرام زہنی سکون کیوں نہیں دے رہا۔ ہم تو نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی طور پر بھی ہم کمزور ہوتے جا رہے ہیں ہماری خوشیاں ہمارے اندر غم اور اندیشوں کو جنم دے رہی ہیں۔ بے س...
خلیل الرحمان قمر نے دوران انٹرویو گالی کیوں دی؟ آخرحق اورسچ کی بات کرنے والے ڈرامہ نگارخلیل الرحمان قمر کیخلاف کروڑوں روپے ہرجانے کادعویٰ دائر کیوں کیا گیا؟
لاہور ڈیلی پاکستان آن لائن لاہور کی سول عدالت میں معروف ڈرامہ نگار 'خلیل الرحمان قمر' کے خلاف مقامی صحافی فرخ شہباز وڑائچ نے ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیا گیا ہے جس میں درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیارکیا گیاہے کہ انٹرویو کے دوران خلیل الرحمان قمر سے مناسب سوال کیا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے۔ درخواست گزار کا کہناہےکہ خلیل الرحمٰن قمر نے سوال کا جواب دینے کے بجائے کیمرہ کے سامنے گالی دینا شروع کردی۔ بعدازاں خلیل الرحمٰن قمر نے سوشل میڈیا پر میرے خلاف مہم بھی شروع کی جس کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوگئیں۔خلیل الرحمان قمر کی غیر مناسب زبان اور د ھمکیوں کی وجہ سے میری شہرت کو نقصان پہنچا۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعاکی ہے کہ خلیل الرحمان قمر کو ) 5 ( کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔ خیال رہے کہ خلیل الرحمان قمر کئی مشہور اور معروف ڈرامے تحریر کرچکے ہیں۔ حال ہی میں ان کے ڈرامہ میرے پاس تم ہو کو ملک بھر میں بے حد پذیرائی ملی تھی جس کے بعد خلیل الرحمان قمر لوگوں کی...