اسلام اور مغرب کی
تاریخی حیثیت اور اس کے مقاصد:
اگر تاریخ کے آئینے میں اس صورتحال کا جائزہ لیا
جائے تو ساتویں صدی عیسوی میں ظہور اسلام کے ساتھ ہی قرآن کریم نے اہلِ کتا ب کو
دعوتِ مکالمہ دینے میں پہل کرتے ہوئے مختلف سطح پر رابطہ اور تبادلہ خیال کی راہیں
نکالیں۔ اس سلسلے میں نبی کریم ﷺ کے نامۂ مبارک، جو مختلف عیسائی و غیر عیسائی
فرماں رواؤں کو لکھوائے گئے تھے ، رابطے کے اولین اقدامات کہا جا سکتا ہے۔ قرآن
کریم نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں اور خصوصاً اہلِ کتاب کو باربار دعوتِ فکر دیتے
ہوئے مشترک بنیادوں پر اس مکالمے کا آغاز کرنے کی دعوت دی۔ اس بنا پر یہ خیال
کرنا درست نہ ہو گا کہ اسلام اور مغرب کا مکالمہ کوئی نئی چیز ہے۔ یہ مکالمہ
اسلامی ریاست اور معاشرے کے دورِ عروج میں بھی رہا اور مسلمانوں کے دورِ زوال بلکہ
مغربی سامراج کی محکومی کے دوران بھی جاری رہا ۔گو ہر دور کے لحاظ سے مکالمے کے
دائرے اور زاویے بدلتے رہے۔
قرآنی زاویے سے اس مکالمے
کا پہلا مقصد الہامی ہدایت کو ماننے والے مذاہب میں قْرب پیدا کرنا ہے تا کہ ایک
ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے جس میں اسلامی نظام نافذ ہو چند مشترک بنیادوں پر
اہلِ کتاب کو معاشرتی اور عائلی تعلق کے دائرے میں لے آیا جائے۔ اس مقصد کے حصول
کے لیے اسلام نے اہلِ ایمان مسلمان مردوں کو صالح اہلِ کتابیہ سے عقد نکاح کی
اجازت دیکر اہلِ کتاب کے ساتھ خاندانی تعلق کے قیام کو ممکن بنایالیکن اس بات کی
اجازت نہیں دی کہ ایک مسلمان خاتون کسی اہلِ کتاب سے نکاح کر سکے۔ وجوہ بڑی واضح
ہیں۔ اس طرح مادی طور پر خاندانی رشتہ تو قائم ہو جاتا ہے لیکن گھر کے تمام امور
کا فیصلہ اسلامی شریعت کو تسلیم نہ کرنے والے کے ہاتھ میں رہتا ہے اور نہ صرف یہ
بلکہ آئندہ آنے والی اولاد بھی غیر اسلامی اصولوں پر پرورش پاتی ہے جبکہ اہلِ
کتابیہ سے شادی کی شکل میں گھر کا ماحول اور اولاد کی تربیت مکمل طور پر ایک صاحبِ
ایمان کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔ یہ موقع تفصیلات میں جانے کا نہیں، ہم صرف یہ بات
واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان مکالمہ محض نظری سطح پر
نہیں بلکہ خاندان، تجارت اور بین الاقوامی امور پر ہر سطح پر ظہورِ اسلام سے رہا
ہے، اس لیے کثرتیت یعنی پلورل ازم کی بات اسلام کے تناظر میں کوئی نئی
دریافت نہیں ۔
تاریخی حیثیت سے مغرب اور
عیسائی دنیا کا تعلق اتنا قریبی رہا ہے کہ عموماً مغرب دوستی یا مغرب دشمنی کو
عیسائی دوستی اور دشمنی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے جبکہ مغرب نے سولھویں صدی عیسوی
کے بعد شعوری طور پر عیسائیت سے اپنا فاصلہ بڑھانے کے عمل آزادیٔ راے، جمہوریت،
انفرادیت، مادیت، مثبتیّت (Positivism) کو اپنی
فکری بنیاد قرار دیا اور سرمایہ دارانہ فکر کو اپنا بنیادی نظریہ اور پہچان قرار
دیتے ہوئے اپنے معمولات میں ہفتہ میں ایک دن کا کچھ حصہ اپنے مذہب کے لیے مخصوص
کرنے میں اپنی بھلائی جانی اور مذہب اور دیگر معاملات کے درمیان عدم تعلق اور
فاصلہ رکھنے کو علمی اور عملی حیثیت سے اتنی تکرار کے ساتھ پیش کیا کہ دیارِ مغرب
کے باہر بسنے والے افراد بھی اپنی تمام’ ’مذہبیت‘‘ کے باوجود زندگی کی اس دوئی میں
عملاً مبتلا ہو گئے۔ لیکن غیر مغربی معاشروں کو جب اور جہاں بھی اس خرابی کا شعور
ہوا، ان کے دانشوروں اور علما و اساتذہ نے اس پہلو پر توجہ دی چنانچہ تاریخ کے ہر
دور میں اصلاح و تجدید کی کوششوں کا بنیادی نکتہ یہی رہا کہ قرآن و
سنت کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی زندگی کے تمام معاملات کو اللہ کی بندگی میں لایا
جائے۔
یہاں صرف یہ اشارہ کرنا
مقصود ہے کہ مغرب سے مکالمہ ہو یا مجادلہ، دونوں شکلوں میں مشترک بنیادوں پر
تبادلہ خیال کرتے ہوئے بعض بدیہی پہلو نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ مغرب جس فکر کا
ملغوبہ ہے اس کی روح ’’مذہب‘‘ کو محدود کرنے میں مضمر ہے چنانچہ سیکولرازم عموماً
یہ نہیں کہتا کہ خالق کائنات، انسانوں کے مالک اور رب کا مکمل انکار کیا جائے بلکہ
صرف اتنی بات کہہ کر اس مقصد کو حاصل کر لیتا ہے کہ اللہ کے دائرہ کار کو مسجد،
کلیسا اور ہیکل تک محدود کر دیا جائے۔ مسلمان ہو یا عیسائی یا یہودی وہ اپنے مقررہ
دن اور مقررہ وقت پر اپنے عبادت خانے میں جا کر جو چاہے کرے لیکن ہفتہ کے بقیہ
دنوں میں کاروبار ہو یا سیاست، معاشرت ہو یا ثقافتی سرگرمیاں، ان تمام معاملات
میں’ ’مذہب‘‘ کو دخل دینے کا اختیار نہ ہو۔ دین اور دنیا کی یہ تفریق مغربی ذہن
اور مغربی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اسی کو ہم لادینیت یا سیکولر ازم کہتے ہیں جسے
لامذہبیت یا الحاد کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ لادینیت مذہب کو غیر فعال
بنانے اور زندگی کو 2خانوں میں بانٹ دینے کا نام ہے۔ یہ ذہن اور یہ فکر اگر ایک
ایسے شخص کے اندر پائی جاتی ہو جو ہر جمعہ کو نماز پڑھتا ہو اور ہفتہ کے بقیہ دنوں
میں سر پر نماز کی ٹوپی پہن کر اسٹاک ایکسچینج میں بازی لگاتا ہو تو اس کا نماز کی
ٹوپی پہننا اور جمعہ کو باقاعدگی سے نماز ادا کرنا اسے غیر سیکولر نہیں بنا سکتا۔
سیکولرازم وہ بنیادی مرض ہے جس کے زہریلے اثرات مغربی تہذیب اور مغرب کے ہر ہر
شعبۂ حیات میں سرایت کر چکے ہیں اور اب یہ زہر اس کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے اس
لیے مغرب خود اپنے اس اندرونی مرض کا احساس بھی نہیں کر پاتا۔

Comments :
Post a Comment