اسلام اور مغرب کے درمیان مکالمہ:
اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان مکالمہ محض نظری سطح
پر نہیں بلکہ ہر سطح پر ظہورِ اسلام سے رہا ہے:
اکیسویں صدی کا
آغاز جن واقعات سے ہوا، انھوں نے اسلام اور مغرب کی تاریخی آویزش کو ایک نئی شکل
دے دی اور ہر دو فریق جن خدشات، خطرات اور تنازعات کا شکار ہوئے، وہ عالمی نقشے پر
بعض بنیادی تبدیلیوں کا سبب بن گئے۔ مغربی اقوام خصوصاً امریکہ کے سامراجی عزائم عملی
شکل اختیار کر گئے اور مغرب کے تمام حقوق انسانی، سرحدی آزادی، ملکی خود مختاری
اور امن عالم کے نام نہاد نعروں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی۔ مغرب کے بعض نمائندہ
مفکرین نے سیاسی، سامراجی عزائم کو نئے عالمی نظام (نیو ورلڈ آرڈر) کا چوغا پہنا
کر مسلم ممالک کے توانائی کے وسائل پر عسکری قوت سے قبضہ کرنے کے گھناؤنے عمل کو
امریکہ کی ’’قومی سا لمیت کے تحفظ‘ ‘کا نام دیا۔1992ء میں امریکی مفکر
سیموئل پی ہنگٹنگٹن نے اپنے ایک مقالے میں جس تہذیبی ٹکراؤ کے خدشے کا اظہار کیا
تھا وہ عملاً پہلے سے تحریر شدہ ایک کہانی کے خاکے کی طرح ستمبر2011ء میں
افغانستان اور عراق پر یلغار کی شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ واقعات کے اس منطقی تسلسل
نے مسلم ممالک کی غالب آبادی کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ انکے فرماں روا جس مغرب
دوستی کا دم بھرتے ہیں وہ کتنی کھوکھلی، ناپائدار اور مغرب کے مفاد پر مبنی ہے ۔
نائن الیون نے جہاں منفی
تاثرات پیدا کیے، وہیں خود مغرب میں اس سانحے نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں
تجسّس اور حقیقت حال کو سمجھنے کی خواہش کو بیدار کیا۔ اس واقعے کے ایک ماہ کے
اندر امریکہ کے کتب فروشوں کے پاس قرآن کریم کے جتنے نسخے انگریزی ترجمے کے ساتھ
موجود تھے، فروخت ہو گئے اور اسلام پر کتب کی بڑی مانگ پیدا ہو گئی۔ قرآن کریم نے
بالکل صحیح کہا ہے کہ بعض چیزوں سے انسان کو کراہت آتی ہے جبکہ ان میں رحمت ہوتی
ہے اور بعض چیزیں اچھی معلوم ہوتی ہیں جبکہ ان میں ضرر ہوتا ہے۔ اسلام اور مغرب کی
اس تازہ آویزش نے دونوں جانب دانش وروں اور محققین کو اس نئی صورتِ حال کے تجزیے
اور اس کے پسِ منظر میں چھپے اسباب پر تفکر کی دعوت دی اور مغرب جو اپنے سامراجی
دورسے استشراق کے زیرِ عنوان مسلم ممالک کی زبان، ثقافت اور تاریخ کو سمجھنے میں
مصروف تھا، اب اس کی اس کاوش میں مزید اضافہ ہوا۔

Comments :
Post a Comment