آخر جمہوریت ہے کیا ؟


جمہوریت محض ایک لفظ نہیں ایک تصور ہے ، ہر تصور کو سمجھنے کے لئے اس کی تاریخ جاننا ضروری ہے ۔ موجودہ تصور جمہوریت 18ویں صدی کی یورپی فکر کی پیداوار ہے ۔ موجودہ جمہوری فکر کا سب سے اہم بانی روسو(Rousseau)ہے ۔ رو سونے مطلق العنان بادشاہت کے خلاف بغاوت کی نظری بنیادیں فراہم کیں ۔ پروٹسٹنٹ عیسائیت مطلق عنان بادشاہوں کو واحد جائز قانون ساز کی حیثیت سے تسلیم کرتی تھی ، پروٹسٹنٹ عیسائیت کادعوی تھا کہ بادشاہ خداکانائب ہے اور وہ قانون بناتا ہے خدا کی مرضی سے بناتا ہے ۔ عیسائیت کی اپنی کوئی شریعت موجود نہ تھی اور دین دار دنیا کے الگ الگدائرہ کار ہونے کے تصورپر(St.Augestine)کے زمانے سے (یعنی چوتھی پانچویں صدی عیسوی پر)تمام عیسائی فرقوں کے مابین اجماع ہوگیاتھا۔ لہٰذ جب پروٹسٹنٹوں نے بادشاہ کی الوہیت (Sivine Sught Of the King)دعویٰ پیش کیاتوکیتھولک اورتھوڈوکس مکاتیب کے پاس اس کورد کرنے کاکوئی جواز نہیں تھا، پاپائے روم دنیوی بالخصوص سیاسی معاملات میں قانون سازی آیات انجیل بہ احادیث عیسیٰ علیہ السّلام کی بنیاد پرنہیں کرسکااورفرانس جیسے کٹرعیسائی ملک میں بھی بوربون (Bowrboun)خاندان کی مطلق العنان بادشاہت کی کیتھولک چرچ کوبھرپور حمایت حاصل ہوگئی۔روسواوردیگر لبرمفکرین نے اسی (Sivine Sught Of the King)کے تصورکورد کردیا۔ روسونے کہاکہ اس تصورکی بنیاد پرجوسیاسی نظام قائم ہوتا ہے وہ ایک ظالمانہ اورجابرانہ نظام ہوتا ہے ۔روسونے کہا کہ بادشاہوں کے خلاف بغاوت کرکے ان سے قانون سازی کاحق چھین لیناچاہئے ۔ قانون سازی کا حق ہرشہری کو حاصل ہوناچاہئے ، روسونے (Sivine Sught Of the King)کے تصور کی جگہSivine Of the Citezen) (Divne Of کے نظرئیے کورکھا۔ یہی نظریہ موجودہ تصورجمہوریت کابنیادی عقیدہ ہے ۔ اس تصورکوہم ”لاالہ الا انسان”کے خبیث کلمہ سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں ۔ ”
اگرقانون سازی پرسٹیزن کا حق ہے تولازماًقانون سازی کی بنیاد انسانی خواہشات ہوں گی کیونکہ جیسے موجودہ معاشیات کے ایک اہم مفکرنے کہا”عقل خواہشات کی غلام ہے ”رو سونے بھی قانون سازی کے عمل کو خواہشات کے تابع تصورکیاہے ۔ وہ کہتاہے کہ عادلانہ معاشرہ کے قیام کا طریقہ یہ ہے کہ تمام سٹیزن ایک معاہدہ عمرانی میں شریک ہوں جو ارادہ عمومی کی تشریح اور تعبیر کرے ، یہ ارادئہ عمومی حق باطل اور خیر وشر کی شناخت کرے ۔ حق وہی ہے جس کوارادئہ عمومی حق گردانے ، واحد غیرمتبدل معیار خیروشریہی ارادئہ عمومی ہے ۔ اس ارادہ عمومی کویہ حق بھی حاص ل ہے کہ جس چیز کوایک وقت میں حق گردانے اس کوکسی اوروقت میں باطل قراردے دے ۔ اسی تصور کی بنیاد پراٹھارویں صدی میں دوبڑے انقلابات رونماہوئے ، پہلے امریکامیں اورپھرفرانس میں ، دنوں ممالک میںجوسالوں کے عرصے میں یہ نظام پورے یورپ اورامریکا پرچھاگیاہے ، اسی سیاسی نظام کے غلبہ کے مندرجہ ذیل نتائج سامنے آئے ہیں ۔
یورپ اورامریکا سے مذہب کاجنازہ نکل گیا۔ معاشرتی سطح پرلبرل اقدار مکمل طورپرغالب آگیں ، ہرنوع کی عیسائیت (کیتھولک ، پروٹسٹنٹ ، ارتھوڈوکس ) نے اپنی لبرل تعبیر پیش کی ۔ اللہ کے قادر مطلق اورمالک الملک ہونے کاتصور معدوم ہو گیا، قانون سازی میں احکامات الہی سے ہدایت حاصل کرنے کے عمل کو خارج کردیاگیا۔ حقوق العباد کورد کر کے حقوق انسانی کے غلیظ اور مکروہ تصورات کی بنیاد پر معاشرتی اقدار کاتعین کیا جانے لگا۔ اخروی زندگی کویکسربھلادیاگیا۔
 اخلاقی پستی اورگراوٹ اپنی انتہاکوپہنچ گئی ۔ حیا، عفت اورعصمت کے تصورات لایعنی ہوگئے ۔ زنااوراغلام بازی ایک وباکی طرح پورے معاشرے میں پھیل گئی ۔ آج سوئیڈن میں 60فیصد بچے ناجائز پیداہوتے ہیں ، امریکاکی تقریبا25فیصد آبادی ہم جنس پرست ہے ۔ برطانیہ کے شہر لیور پول (Liver Pool)میں 2001ء میں کئے جانے والے سروے کے مطابق اس شہر کے اسکولوں میں پڑھنے والی بچیاں 9سال کی عمر میں زنابالجبر کاعموما شکارہوجاتی ہیں ۔ نفس پرستی کالازمی نتیجہ سرمایہ دارانہ نظام کے مکمل غلبہ کے طورپر نکلا۔ آج یورپ اورامریکا میں حلال رزق کمانابالکل ناممکن ہو گیا، ہر شخص سرمایہ کی بڑھوتری میں اضافہ کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں کھپا دے ۔ اس کی روحانی زندگی تباہ ہوگئی ہے ، لبرل اور سوشلزم کے پاس روحانیت کا سرے سے کوئی تصور موجود نہیں اوریہ نظریات یورپ اورامریکا کے ہرشخص کو حرص ، حسد ، دنیا پرستی کی تعلیم دیتے ہیں اور ہوس ناکی اور سفاکی کے فروغ کو عقل کاعین تقاضا گردانتے ہیں ۔ان حقائق کوسامنے رکھ کر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عمومی حالات میں جمہوری طریقہ اپناکرمعاشرتی اور ریاستی سطح پرنفاذ اسلام ناممکن ہے ۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جیسے جیسے کسی معاشرے میںجمہوریت جڑپکڑتی ہے ویسے ویسے اخلاق رذیلہ فروغ پاتے ہیں ۔ لوگ اپنے نفس کواپناآلہ بنالیتے ہیں، اسلامی عصبیت معدوم ہو جاتی ہے اورلوگ سرمایہ کے غلام بن جاتے ہیں ۔ وہ لبرل حکومتوں کے بہیمانہ مظالم کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح یورپ کے عیسائی ، امریکامیں 70لاکھ ریڈ انڈینز کے منظم قتل عام پر خاموش رہے ، اسی طرح ہم افغانستان اورفلسطین میں امریکی مظالمپرخاموش ہیں ۔ جمہوری ریاست کا شہری عموماً بے غیرت ، بے حیاء لذت پرست اورخدافراموش ہوتاہے ۔ پھرکیاوجہ ہے کہ ملک کی تقریبا تمام اسلامی اورسیاسی جماعتیں جمہوریت کورد نہیںکرتیں ۔ یہ جماعتیں جمہوریت کی اصلیت سے صرف نظر کر کے اس کی ایک لفظ ی تشریح کرتی ہیں اوراسی لفظی تشریح کی بنیاد پراس کا اسلام سے تعلق بیان کرتی ہیں۔ اس رویے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلامی جماعتوں کی مجبوریوں پربھی نظررکھیں ۔جمہوریت سے مصالحت کی داستان 1920ء سے شروع ہوتی ہے ، اس وقت خلافت عثمانیہ تہس نہس ہو چکی تھی ، برصغیر کی دو جہادی تحریکیں جو1857ء سے کسی نہ کسی شکل میں جاری تھیں ختم ہوچکی تھیں اورمسلمان عوام میں سیکولر جماعتیں مقبولیت پارہی تھیں ۔ اس ماحول میں علماء کرام جمہوری دستوری نظام کی مخالفت سے دستبردار ہونے پرمجبورہوگئے اور تحریک استخلاص وطن اور تحریک پاکستان میں سرگرم سیکولرجماعتوں کانگریس اورمسلم لیگ سے یہ توقع قائم کرلی گئی کہ وہ فروغ دین کے معاملے میں ایک غیرجانبدار کردار اداکریں گی ۔ مسلم لیگ سے تویہ توقع باندھی گئی تھی کہ وہ شریعت کونافذ کرکے ایک اسلامی ریاست قائم کرے گی ۔
علامء کی ان غلط فہیموں کاسب سے واضح اظہار اس وقت ہوا جب 1948.49ء میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء نے اپنا پورازور قرار داد مقاصد کی پارلیمانی منظوری کی مہم پرلگادیا۔جب یہ قرار داد منظور ہوگئی توعلماء نے پاکستان کوایک اسلامی ریاست قرار دے دیا حالانکہ یہاں شریعت نافذ ہوئی نہ اسلامی علوم کے معاشرتی و سلطنت انہی بنیادوں پرچلتارہاجو برطانوی استعمار مرتب کرگیاتھااورپاکستان عالمی استعماری نظام کاجزولاینفک 11اگست 1947ء ہی سے بن گیاتھا۔ ایک اورغلط فہمی جوعام ہوئی وہ یہ تھی کہ یہاں کے عوام غلبہ اسلام کے خواہش مندہیں اوراگران کوانتخابات میں اظہار رائے کاموقع دیاجائے تووہ اسلامی جماعتوں کوہی منتخب کریں گے ۔ انتخابات میں پے درپے ناکامیوں کے باوجود معاشرتی صلح پر سرمایہ داری اورسیکولر اقوام کے فروغ نے ثابت کردیاہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست نہیں ایک خالص سیکولرریاست ہے جوامریکی استعمار کی باج گزاررہی ہے ۔ قراردادمقاصد اور دستور کی دیگراسلامی دفعات محض سیاسی اشرافیہ کی منافقت کااظہار ہیں اورکچھ نہیں ۔ عوام کی ایک بڑی اکثریت نہ اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارتی ہے اورنہ گزارنا چاہتی ہے ۔
ان حالات میں جمہوری عمل سے یہ توقع رکھناکہ اس کے نتیجے میں اسلامی عصبیت بیدار ہوگی اوراستعمار سے نجات حاصل ہوگی ، ایک غیرحقیقت پسندانہ بات ہے ۔ اگرہمیں اسلامی عصبیت کوابھارناہے اورامریکی استعمارسے نجات حاصل کرنی ہے تواس کے لئے ضروری ہے کہ عوام میں سے ایک گروہ حصول رضائے الہی کومقدم جان کراس کے لئے اپنی خواہشات کوقربان کرنے کے لئے بتدریج آمادہ ہو۔ یہ لوگ بالخصوص علماء اپنی مساجد کی قیادت میں محلے اوربازار کی سطح پرمنظم ہوں ۔ محلے اور بازار کی سطح پرتنفیذ شریعت اوراعانت جہاد افغانستان اور کشمیر کاکام عملاً مرتب ہو۔ ظاہرہے کہ یہ جدوجہد جمہوری اصولوں کی پابندی کرکے نہیں چلائی جاسکتی ۔ جمہوری عمل میں شمولیت سے ہم اس بات پرمجبورہوجاتاے ہیں کہ اسلام کوعوامی حقوق کے حصول اور خواہشات نفس کی تکمیل کاذریعہ بناکرپیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات سے متعقل مہمات کبھی بھی صحیح دعوت کاذریعہ نہیں بن سکیں ۔ اس کے برعکس جب اسلامی جماعتوں کے کارکن انقلابی بنیادوںکواہل دین کی عملی قیادت تلے منظم کرتے ہیں تو روحانیت اور اخلاق حمیدہ فروغ پاتے ہیں کیونکہ مجاہدین اورانقلابیوں کی بنیادی دعوت حصول رضائے الہٰی اور نفسانیت کی رد پرمبنی ہوتی ہے ۔
یہ درست ہے کہ موجودہ حالات میں جمہوری عمل سے مکمل پہلوتہی ممکن نہیں اوراس شمولیت کے نتیجے میں تحفظ دین کاکچھ کام لیاجاسکتاہے ۔ مثلاًاگربلوچستان اورسرحد میں ہماری انتخابی کارکردگی بہتررہی ہے توصوبوں سے استعمارکی بے دخلی کی تحریک کوفائدہ پہنچ سکتاہے ۔ اس میں انتخابی عمل ، انقلابی جدوجہد اورمجاہدین کے کام کوتحفظ دینے کاذریعہ بن سکتاہے لیکن جمہوری عمل کے ذریعے ان عوام کی قلبی کیفیات بدلی جا سکتی ہیں تاکہ وہ حصول رضائے الہٰی کے لئے قربانیاں پیش کریں ۔ عوام کوغلبہ دین کی جدوجہد کے لئے علماء کرام کی قیادت تلے منظم کیاجاسکتاہے ۔ چونکہ یہ وہ کام ہے جس کی بنیاد پرشریعت کانفاذ اوراعانت جہاد افغانستان وکشمیرممکن ہوسکتی ہے لہٰذا مقدم یہی کام ہے ۔ جیسے جیسے یہ انقلابی جدوجہد جڑپکڑ ے گی اسلامی جماعتوں کے لئے جہموری عمل کومسترد کرنا آسان ہوجائے گا۔
اکتوبر2002ء کی انتخابی مہم کاسب سے بڑاخطرہ یہ ہے کہ اسلامی جماعتیں سیکولرجماعتوں کے ساتھ سمجھوتے کریں ، خواہ انتخابی اتحاد ہویاسیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ کی شکل ہو۔ سیکولر جماعتوں سے کسی نوعیت کے اشتراک عمل کاکوئی جواز نہیں ۔ یہ سب پارٹیاں ، مسلم لیگ کے تمام دھڑے ،پیپلز پارٹی ، اے این پی ، متحدہ قومی موومنٹ ، نیشنل الائنس اورتحریک انصاف استعمار کی باج گزار اورخالص لادین جماعتیں ہیں ۔ یہ جماعتیں چاہتی ہیں کہ ہماراانقلابی اسلامی تشخص بحالی دستورکی مہمات میں دب جائے اورمہم نفاذ شریعت اور اعانت جہاد افغانستان اور کشمیر کا ذکر نہ کریں ۔ اگر اسلامی جماعتیں نوابزادہ نصر اللہ خان کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئیں توسیکولرجماعتیں سرخروہوجائیں گی ، کل وہ اسلامی جماعتوں کواسی طرح ذلیل کرکے ایوان اقتدار سے نکالیں گی جس طرح 1992ء میں نواز شریف نے جماعت اسلامی کونکالاتھااورامریکاکی گرفت پاکستان پرمضبوط ہوجائے گی ۔
ہمیں اکتوبر2002ء کے انتخابات کونفاذ شریعت اوراعانت جہاد افغانستان وکشمیر کی ایک مہم بنادینا چاہئے ، ایک ایسی مہم جس سے عوام میں اسلامی عصبیت پھیلے اوروہ ائمہ مساجد کی قیادت میںمحلہ ، محلہ ، بازاربازار متحد اورمنظم ہوں ۔ نفاذ شریعت کی مخالفت پرہمیں سیکولر جماعتوں کوعوام میں بے نقاب کرناہے ۔ ہم اسلامی انقلابی مجاہدین افغانستان وکشمیرکے خادم اورپشت پناہ ہیں، ہمیں بحالی جمہوریت سے امریکا کو یہاں سے بے دخل نہیں کیاجاسکتا۔ اکتوبر 2002ء کے انتخابات میں ہمارابنیادی مطالبہ یہ ہوناچاہئے کہ ”امریکا کو پاکستان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکال دو۔
قائداعظمؒ نے فرمایا کہ اگر مجھے سلطنت مل جائے۔ اقبال اور سلطنت میں کسی ایک کو منتخب کرنا ہو تو اقبال کو منتخب کروں گا۔ اقبال بڑے ادیب‘ بلند پایہ شاعر اور مسلم مفکرتھے ۔ انہوں نے یورپ کے جمہوری نظام سے سخت نفرت کا اظہار کیا جو آج ان کے بنائے ہوئے ملک میں بھی رائج ہے۔ انہوں نے فرمایا:
امریکہ کیساتھ تجارتی تنازعات کو فعال انداز میں نمٹارہے ہیں:
چین تیری حریف ہے یارب سیاست افرنگ
                                           مگر ہیں اسکے پجاری فقط امیر و رئیس

بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے 
                                                       بنائے خاک سے اس نے دوصد ہزار ابلیس
مغرب کے جمہوری نظام کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سلیمانی ہیکل سے چند یہودی عیسائیت کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں سے انکی حفاظت کرنے کے لئے خفیہ اکٹھے ہوئے۔ انہوں نے عیسائی پوپ کے ذریعے صلیبی جنگوں کا آغاز کر ایا۔ آخر ۹۱۱۱ ء میں نائٹس ٹمپلرز کے نام سے ایک خفیہ عسکری تنظیم قائم ہوئی جو تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی کی حفاظت کرتے کرتے یورپ میں پھیل گئی۔ انہوں نے سودی بینکاری‘ ہنڈی‘ بیمہ‘ سونا گروی رکھنے کے کام متعارف کرائے۔ سود در سود کی صورت میں یہ رقم کا ۰۶ فیصد تک بھی وصول کرتے حتیٰ کہ ۶۶-۰۶۲۱ء کے درمیان بادشاہ ہنری کے تاج کے ہیرے بھی ٹمپلرز کے پاس رہن رکھے تھے۔ بادشاہ جان ‘ ہنری سوم‘ ایڈورڈرول سب ان کے مقروض تھے۔ چرچ کو انہوں نے اپنا ہمنوا بنا لیا۔ حضرت اقبال نے فرمایا۔
تیری دوانہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں                                                   فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
فرانس کے بادشاہ فلپس چہارم اس سازش کو سمجھ گیا۔ ٹمپلرز کو عیسائی عوام کی مذہبی حمایت حاصل تھی۔ بادشاہ نے پوپ بونی فیس ہشتم سے جان چھڑائی۔ ٹمپلرز کی چھان بین کلیمنٹ پنجم پوپ سے کرائی۔ ان پر توہین مسیح ‘ بت پرستی‘ ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کے الزامات ثابت ہوئے۔ ۲۱۳۱ء میں تنظیم کو کالعدم کرکے اسکے ماسٹر مائنڈ جیکس ڈی مولائے کو ہلکی آنچ پر کباب بنا دیا۔ ٹمپلرز نے اس سے ایک سبق سیکھا کہ ایک ہاتھ میں اقتدار ہمارے لئے خطرناک ہے۔ انہوں نے جمہوریت کے نام سے ایک نیا نظام حکومت متعارف کرانا شروع کیا اور تنظیم کا نام تبدیل کر کے فری میسن رکھا۔ سب سے پہلے چرچ اور سیاست کو الگ کیا ۔ بقول اقبال:
سیاست نے مذہب سے پیچھا چھڑایا                                                                   چلی کچھ نہ پیر کلیسا کی پیری
رفتہ رفتہ جمہوریت کے خونخوار پنجوں نے بادشاہت ‘ خلافت اور دیگر نظام ہائے حکومت کو اکھاڑ پھینکا اور ابلیس نے بھی بقول اقبال برملا کہہ دیا:
جمہور کے ابلیس ہیں ارباب سیاست                                                                   باقی نہیں اب میری ضرورت تہہ افلاک
فری میسن نے سکاٹ لینڈ کو سنٹر بنایا۔ رابرٹ بروس کی ہتھیاروں اور دولت سے مدد کی۔ ۴۱۳۱ء میں انگریز فوج نے شکست کھائی اور رابرٹ بروس سکاٹ لینڈ کا بادشاہ بن گئی اس طرح ان کے کنٹرول میں ایک مکمل حکومت آ گئی۔ ۳۰۶۱ء میں جیمز پنجم سکاٹ لینڈ سے بڑھ کر برطانیہ کا بھی بادشاہ بن گیا اس طرح برطانیہ کی حکومت پر مکمل یہودی کنٹرول ہو گیا۔ اس طرح برطانوی جنرل ایلن بی کے ہاتھوں فلسطین کو خلافت عثمانیہ سے چھین کر اسرائیل قائم کر دیا گیا اور پھر یہودی سود خوروں نے خلافت عثمانیہ کو بھی قرضوں کی پیشکش کی جو انہوں نے ٹھکرا دی۔ پھر برطانیہ کی سرپرستی میں فری میسن نے ترک قومیت اور عرب قومیت کے جذبات الگ الگ ابھارے۔علاقائی اور مذہبی منافرت میں کامیابی حاصل کی۔ ۸۸۲۱ء میں قائم ہونے والی خلافت عثمانیہ کو ۴۲۹۱ء میں منہدم کر دیا۔
اور ایک ترک مصطفی کمال پاشا کو اپنا ایجنٹ بنا کر مسلمانوں کے اتحاد کے محور کو تباہ و برباد کر دیا۔ مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی گئی۔ عربی کے لفظ بھی ترکی سے نکال دئے گئے۔ بے حیائی‘ بے پردگی عام ہو گئی اور مغربی جمہوریت کے معجزے نظر آنے لگے جس پر حکیم الامت نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا :

فری میسن کے ایجنٹ ترک مدرسوں میں داخل ہوئے اور مسلمانوں کے بھیس میں تمام راز معلوم کر کے اسلامی مرکزیت کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ فری میسن کا ایجنٹ کرنل لارنس عربی لباس پہن کر عربوں کو اکساتا اور ترکوں کو قتل کرا کر عربوں کو انعام دیتا تھا۔ ۶۱۹۱ء عرب مسلمانوں نے نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حسین (شریف مکہ) کی سربراہی میں خلیفہ سے بغاوت کر کے انگریزوں کی مدد سے حکومت قائم کر لی۔ پھر جمہوریت کے نام پر وطنیت کی تحریکات کے ذریعے تمام مسلم امہ کو پارہ پارہ کر دیا۔ علامہ اقبالؒ دنیا کے سیاسی نظام پر گہری نظر رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کو دور کرنے اور آبرو سے زندہ رہنے کا حل صرف خلافت کو قرار دیا ہے:

یہودی کو سب سے زیادہ خطرہ اس پاکستان سے ہے جو لسانی‘ علاقائی اور مذہبی منافرتوں میں تقسیم ہے۔ اور ان تمام طبقوں کو ابھارنے میں فری میسن‘ ایم کے‘ الڑا اور بلیک واٹر جیسی یہودی تنظیمیں خفیہ کام کر رہی ہیں کیونکہ پوری دنیا پر یہودی معاشی کنٹرول ہے۔ انہوں نے کافی اعلیٰ ڈاکٹرز‘ سرمایہ دار‘ سیاستدان‘ میڈیا‘ فوج اور عدلیہ میں اپنے ممبران پا ل رکھے ہیں۔ ورلڈ بنک پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ ایک سیاسی مرغا ان کے مشن سے ہٹتا ہے تو دوسرا پٹھا تیار کر لیتے ہیں۔ حکومت کو لانے اور بھیجنے کا اور لیاقت علی خاں سے آج تک سربراہوں کو قتل کرانے کا کام بھی تنظیمیں کرتی ہیں۔ اقبال نے مسلم امہ کو چوکنا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب یہ خواہشات کے دلال اور حرص کی گندی لاشیں نہ سمجھیں اور ان کے رنگ میں دولت اور اقتدار کے لئے رنگے جائیں تو عبرتناک انجام بھی یاد کر لیں:

آج امریکہ اس کے اتحادی اور عرب ممالک یہودی دجال کے قبضے میں ہیں جو پوری دنیا سے بے شمار خفیہ تنظیموں کے ذریعے لوگوں کے ضمیر خرید رہے ہیں اور اسلامی اقدار کا دنیا سے خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ ہی نہیں دنیا بھر کے الیکٹرانک میڈیا پر ان کا قبضہ ہے۔ پاکستان میں بھی اسلام اور سیاست کو الگ کرنے کے کئی لیکچر سننے کا اتفاق ہوا ہے۔ لیکن حکیم الامت کے مطابق اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔






Comments :

Post a Comment